آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری

فلک سے نکلا ہوں شجرے میں لکھ دیا جائے

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

فلک سے نکلا ہوں شجرے میں لکھ دیا جائے
زمیں کا دکھ مرے حصّے میں لکھ دیا جائے

جوان رہتا ہے مجھ ایسا ایک بوڑھا شخص
کہ خود کو دیکھ کے بیٹے میں, لکھ دیا جائے

مکیں تھی پہلے اداسی اور اب اندھیرا ہے
ہمارے بعد یہ کمرے میں لکھ دیا جائے

یہاں کسی کا بھی دائم کہاں بسیرا ہوا
یہ قول جسم کے پنجرے میں لکھ دیا جائے

یہاں قفس میں ہے سایہ بھی اور پرندے بھی
یہ ایک پیڑ پہ رستے میں لکھ دیا جائے

ہماری پیاس ہمیں کھا چکی ہے اندر سے
کچھ ایسا آنکھ کے کوزے میں لکھ دیا جائے

کہاں ہوا تھا میں ارشاد یونہی سربسجود
کوئی تو بات تھی چہرے میں , لکھ دیا جائے

ارشاد نیازی

post bar salamurdu

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button