- Advertisement -

بہروپئے!!!!!

ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو نظم

شکرہ اڑتا رہتا ہے

چہرے پر ہیبت پہنی ہے
اندر سے تو ڈرا ہوا ہے
باہر سے جیتا ہے لیکن
اندر سے تو مرا ہوا ہے
یہ جو تیرے رخساروں پر پرچھائیں لہراتی ہے
کیا شریانوں کے جنگل میں شکرہ اڑتا رہتا ہے؟
سایہ دار آنکھیں ہیں لیکن چہرے پر پھیلی ہے کیسی دھوپ یہ
بہروپئے !!!

یہ جو تیرے گھر کی فصیلیں جلتی بجھتی رہتی ہیں
کیا بنیاد میں جگنو ہیں؟
گونج گلی کے رہنے والے
تو گھر میں محصور ہوا تو کب دنیا سے دور ہوا
تیرے سینے کے اندر دو پاٹ دھرے ہیں
جب تو سہمے گھن اور خوف زدہ گیہوں کو
لمحہ لمحہ پیستا ہے
تو گونج گلی میں جاتی ہے۔
کیسا جیون سوانگ رچایا اور بھرا ہے تو نے کیسا روپ یہ
بہروپئے !!!!
اپنے اندر اپنی لاش لئے پھرتا ہے
اسی لئے تو تیرے ٹخنے چٹخ رہے ہیں۔
چہرہ چہرہ جینے والے، کیسے بھر لیتا ہے تو بہروپ یہ
بہروپئے!!!!!

وحید احمد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
بریرہ خان کا اردو کالم