آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر طارق قمرشعر و شاعری

ذائقہ بدلیں گے کیف و وجد میں

ایک اردو غزل از طارق قمر

ذائقہ بدلیں گے کیف و وجد میں آئیں گے کیا
خون ہے محنت کشوں کا ، نوش فرمائیں گے کیا

ہم بھی دیکھیں جھوٹ کا ہوتا ہے کتنا حافظہ
آپ کچھ فرما رہے تھے ،پھر سے فرمائیں گے کیا

خوش لباسی زیب دیتی ہے ، مبارک آپ کو
یہ جو دامن چاک ہے اس کو بھی سی پائیں گے کیا

ان چراغوں کو الجھنا ہے ، الجھنے دیجئے
آپ یہ سوچیں ، ہوا کو حکم فرمائیں گے کیا

شہر بھر میں اب دھواں ہے آگ ہے اور خون ہے
اور کچھ خدمت ہے باقی ، حکم فرمائیں گے کیا

مذہبی شدّت تو اپنا کام پورا کرچکی
اب ذرا الفاظ کا مرہم لگا آئیں گے کیا

مشتعل ہونے لگی ہے منتظر لوگوں کی بھیڑ
اب حرم سے اک ذرا تشریف لے آئیں گے کیا

اب جو مظلوموں کے حق میں کرنے آئے ہیں دعا
آنسوؤں کا پھر کوئی تعویز پہنائیں گے کیا

ڈاکٹر طارق قمر 

post bar salamurdu

ڈاکٹر طارق قمر

ڈاکٹر طارق قمر سینئر ایسو سی ایٹ ایڈیٹر نیوز 18 اردو لکھنئو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button