اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

نہ اپنے دل کے نہ اپنی زباں کے ساتھ چلے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

نہ اپنے دل کے نہ اپنی زباں کے ساتھ چلے
فریب خوردہ تھے ہر مہرباں کے ساتھ چلے

کتاب دور جہاں کے وہ لفظ ہیں ہم لوگ
ہر اک فسانے ہر اک داستاں کے ساتھ چلے

وہ پی کے ہوش میں آئے کہ ہوش کھو بیٹھے
کھچ ایسے قصّے مئے ارغواں کے ساتھ چلے

کہاں کا سود کہ اپنا خیال بھی نہ رہا
زیاں کی فکر میں ہم ہر زیاں کے ساتھ چلے

یہ رُخ بھی کش مکش زندگی کا دیکھا ہے
جہاں کی بات نہ کی اور جہاں کے ساتھ چلے

ہمارے خون سے ابھریں چمن کی دیواریں
ہمارے قصّے بہار و خزاں کے ساتھ چلے

کچھ اس طرح بھی کیا ہم نے طے سفر باقیؔ
نشان بن کے ہر اک بے نشاں کے ساتھ چلے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button