- Advertisement -

ہماری چھوٹی سی ایک خواہش قبول کر لے

تجدید قیصرکی ایک اردو غزل

ہماری چھوٹی سی ایک خواہش قبول کر لے
پھر اس کے بدلے میں جو بھی چاہے وصول کر لے

جسے بھی چاہے بٹھائے سر پہ گھمائے دنیا
جسے بھی چاہے تُو اپنے پیروں کی دھول کر لے

تُو اس کی آنکھوں میں دیکھ روشن دیا بنا لے
تُو اس کے ہونٹوں کو چوم گوتم کا پھول کر لے

وہاں تُو خواہش کی بارگاہ میں جُھکا ہوا تھا
یہاں محبت کے زاویے کو اصول کر لے

کبھی تو لوگوں کی دسترس سے نکال خود کو
کبھی تو ان کے مباحثوں کو فضول کر لے

ابھی تجھے دین دنیاداری کہاں پتا ہے
ابھی تو کچھ بھی نہیں گیا کوئی بھول کر لے

تجدید قیصر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
محمداشفاق کا اردو کالم