- Advertisement -

تاریخ کیا کہتی ہے

محمداشفاق کا اردو کالم

تاریخ کیا کہتی ہے

مسلم تاریخ کا یہ بھی ایک بہت عبرت ناک منظر تھا جب خلیفہ معتصم بااللہ آہنی زنجیروں میں جکڑا ہوا چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے سامنے بے بس کھڑا تھا، کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتنوں میں کھانا کھایا اور خلیفہ کے سامنے سونے چاندی کے برتنوں میں ہیرے جواہرات رکھ دئیے اور خلیفہ سے کہا کہ کھاؤ پیٹ بھر کے کھاؤ یہی سونا،چاندی اور جواہر تُم جمع کرتے رہے ہواب انھیں کھاؤ۔بغداد کا تاجدار بے چارگی و بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا اس نے کہا کہ میں یہ نہیں کھا سکتا، ہلاکو خان نے گرج کر کہا کہ پھر تُم نے یہ سب کیوں جمع کیا؟وہ مسلمان جسے اُس کا دین جہاد کرنے، ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کی ترغیب دیتا ہے اُس نے سونا چاندی جمع کرنا شروع کردیا، ہلاکو خان نے پوچھا کہ تُم نے اپنے محلات کی مضبوط جالیاں اور دروازے پگھلا کر اس کے تیر اور تلوار کیوں نہ بنائے، یہ جواہرات جمع کرنے کے بجائے اپنے سپاہیوں کو رقم کیوں نہ دی کہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری فوج کا مقابلہ کرتے۔ خلیفہ نے سر جھکا کر کہا کہ شائد یہی اللہ کی مرضی تھی تب ہلاکو خان نے کہا کہ ٹھیک ہے جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے وہ بھی خُدا کی ہی مرضی ہو گی، ہلاکو خان نے خلیفہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کے پیروں تلے کچلوا دیا اور بغداد کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔اور پھر دنیا کی کوئی طاقت اُسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکی، اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹاجائے تو ہمیں جنگ و جدال، عروج و زوال، فتح و شکست کی عبرت ناک داستانیں ملیں گی،تاریخ ملبوسات، محلات، ہیرے جواہرات، ہاتھی گھوڑے یالذیذ پکوان وغیرہ کو یاد نہیں رکھتی نہ ہی کوئی مورخ ایسی باتیں لکھ کر اپنا وقت ضائع کرنا پسند کرتا ہے،نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا مگردیواروں پر تلواریں ضرور لٹکی رہتی تھیں، مسلمانوں نے جہاں اپنی شاندارفتوحات اور بے مثال حکمرانی کی گہری چھاپ چھوڑی ہے وہیں کچھ نادان اور نا عاقبت اندیش بادشاہ اور حاکم بھی تاریخ کے صفحوں پر بد نما داغ کی طرح چسپاں ہیں۔
آ ج مسلمان پوری دنیا میں زوال کا شکار ہیں اس کی وجہ غلامانہ ذہنیت اور نظامِ عدل سے دوری ہے یہ وہی مسلمان تھے جو حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ حکومت میں تین برِ اعظموں پر حکمران تھے یہی مسلمان تھے جنھوں نے صلیبیوں اور منگولوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا،ترک مسلمانوں نے سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھی جس نے چھ سو سال تک حکومت کی،آج کل دنیا بھر میں ایک ترکی کا ڈرامہ سیریل ارتغل غازی بہت مقبول ہو رہا ہے اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کو ہمیشہ بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ اندرونی سازشوں کا شکار ہوئے ہیں لیکن اگر آپ کا حاکم ارتغل کی طرح بہادر اور دور اندیش ہے تووہ ہر سازش کو ناکام بنا دیتا ہے

اب اگر ہم تھوڑی سی بات اپنے پاکستانی ارتغل کی کریں تو معلوم ہو گا کہ انھوں نے باتیں تو پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کی کیں لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جو ٹیم بنائی اُس میں وزراء کی ایک ایسی فوج ہے جسکا کوئی نا کوئی رُکن ہمارے بھائی کے لئے کوئی نہ کوئی مصیبت آئے دن کھڑی کر دیتے ہیں، جب میں عمران خان کے فیصلوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ پاکستان میں چوراہے کم پڑ گئے ہوں گے کیوں کہ بھائی یوٹرن بہت مارتے ہیں، اگر حکومت کو دیکھا جائے تو ان کا بہت سارا وقت اور توانائی اپنے ہی اتحادیوں اور کارکنوں کو منانے میں صرف ہو جاتا ہو گااور باقی وقت بھائی کے یو ٹرن کے نتائج کو سنبھالنے میں گزر جاتا ہو گا،اب تو ماشاء اللہ باقی وزراء بھی مزاحیہ خاکے پیش کرنے سے گریز نہیں کرتے، آج کل ایک خاتون وزیر کا کرونا پر بیان ان کی ذہنی پختگی اور سمجھ بوجھ کا آئینہ دار ہے،عمران خان شائد یہ بھول چکے ہیں کہ وہ تبدیلی کے نعرے کے ساتھ حکومت میں آئے تھے لیکن جو ٹیم انھوں نے تشکیل دی وہ ماورائے عقل ہی ہے یہ ٹیم آپس میں ہی دست و گریبان ہے، جب تحریکِ انصاف کی حکومت ہے پوچھو تو بتائیں گے کہ انھوں نے پچھلی حکومت کے مقابلے میں کتنے کم اخراجات کئے ہیں یا پھر ان کی حکومت کی کرپشن کی رپورٹ شائع ہوئی اور پچھلی حکومتوں نے کرپشن کی رپورٹ شائع نہیں کی، کاش ہمارے پاکستانی ارتغل بھائی سمجھ سکتے آپ کو ووٹ لوگوں نے سیاست دان کی حیثیت میں نہیں بلکہ ایک لیڈر کی حیثیت سے چنا تھا آپ سے ایک نئے اور روشن پاکستان کی اُمید تھی
آج کا مورخ بھی تاریخ لکھ رہا ہے، تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے اس میں سچ کے پیمانے بہت سخت ہوتے ہیں اس کے لفظوں کے وار بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں، جہاں پچھلی حکومتوں کی کرپشن کا ذکر ہو گا وہیں پاکستانی ارتغل بھائی کے یو ٹرن اور بے وزن تقاریر اور عمل سے خالی قول کو بھی رقم کیا جائے گا
آج پاکستان میں وہی کرپشن کے اسکینڈل اور ہر شعبے میں تنزلی کی خبریں ہیں، آج کا ایک عام پاکستانی بھی ایک سچے ارتغل غازی کامتلاشی ہے۔ میرے ملک میں جہاں سیاست دانوں میں ذہنی بلوغت کا فقدان ہے وہیں عوام بھی لال بتی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اگر عمران خان اپنی تبدیلی کے نعرے کو پورا نہیں کرتے اور ان کا طرزِ سیاست و حکومت بھی روایتی سیاستدانوں کی مانند رہتا ہے تو ملکی حالات پچھلی حکومتوں سے بھی بد ترین ہوتے جائیں گے،تو پھر تاریخ آپ کی ایمانداری اور نیک نیتی کو یاد نہیں رکھیں گے بلکہ آپ کی نا اہل لیڈر شپاور کم عقل قیادت کے قصے زدِ زبانِ عا م ہوں گے،
میری تو بس یہی دعا ہے کہ میرے ملک پاکستان کو اللہ رب العزت اہل حکمران دے جو ملک کو سا لمیت کی راہ پر گامزن رکھ سکے اور ملک کے عزت و وقار میں اضافہ کرے،آمین

محمداشفاق

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
سحر افشیؔ کی ایک اردو غزل