- Advertisement -

بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے

اظہر فراغ کی ایک اردو غزل

بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے

ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے

کسی بدن کی سیاحت نڈھال کرتی ہے

کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے

نشست کے تو طلب گار ہی نہیں ہم لوگ

ہمارے پاؤں سے کیوں پائیدان کھینچتا ہے

بدل کے دیکھ چکی ہے رعایا صاحب تخت

جو سر قلم نہیں کرتا زبان کھینچتا ہے

دکھا رہا ہے خریدار بن کے آج مجھے

جسے لپیٹ کے رکھوں وہ تھان کھینچتا ہے

چراغوں میں وہ چراغ اس لیے نمایاں ہے

ہم ایسے دیکھنے والوں کا دھیان کھینچتا ہے

یہ سارا جھگڑا ترے انہماک کا ہی تو ہے

سمیٹتا ہے کوئی داستان کھینچتا ہے

اظہر فراغ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اظہر فراغ کی ایک اردو غزل