آپ کا سلاماردو غزلیاتارم زہراشعر و شاعری

ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے

ارم زہرا کی ایک اردو غزل

ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے
جو بے مثال ہے اس کی مثال کیا رکھتے

جو بے وفائی کو اپنا ہنر سمجھتا ہے
ہم اس کے آگے وفا کا سوال کیا رکھتے

ہمارا دل کسی جاگیر سے نہیں ارزاں
ہم اس کے سامنے مال و منال کیا رکھتے

اسے تو رشتے نبھانے کی آرزو ہی نہیں
پھر اس کی ایک نشانی سنبھال کیا رکھتے

جو دل پہ چوٹ لگانے میں خوب ماہر ہے
ہم اس کے سامنے اپنا کمال کیا رکھتے

ہمارے ظرف کا لوگوں نے امتحان لیا
ذرا سی بات کا دل میں ملال کیا رکھتے

جو اپنے دل سے ارمؔ کو نکال بیٹھا ہے
ہم اس کے سامنے ہجر و وصال کیا رکھتے

ارم زہرا

post bar salamurdu

ارم زہرا

شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں نسائی لب و لہجے کی توانا آواز ہیں شاعری افسانے سفرنامے اور کراچی کی تاریخ پر کتابیں کامیابی کے مراحل طے کر چکی ہیں-ارم زہرا روشنیوں کے شہر کراچی میں 8 دسمبر کو پیدا ہوئی ہیں ۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کی شخصیت تہہ در تہہ ہے اور ہر تہہ اپنے اندر ایک بھر پور حوالہ رکھتی ہے۔ ناول نگار،افسانہ نگار،کالم نگار، کہانی کار اور شاعر ہ کی حیثیت سے ہر پہلو مکمل اکائی ہے۔ان کی تخلیقات میں جذبوں کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے ۔ان کی تحریر یں قاری کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے جس کا یہ پوری طرح حق اداکر رہی ہیں ۔ان کے کالموں میں تعلیمی مسائل کو احسن انداز میں اجاگرکیا جاتا ہے۔ ارم زہراء مختلف میگزین میں ایڈیٹنگ اور ٹی وی پہ ہوسٹنگ کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔ان کی اب تک چار کتب۔جن میں نثر میں چاند میرامنتظر “،” میرے شہر کی کہانی“،” ادھ کھلا دریچہ “ ’’اُف اللہ ‘‘جبکہ شعری دل کی مسند“ کتاب گھروں کی زینت بن چکے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button