- Advertisement -

کمرہ

راز احتشام کی ایک اردو نظم

کمرہ

میرے کمرے میں ہیں کچھ کتابیں پڑی
بلکہ رکیے ، یہاں بس کتابیں نہیں،
ان کے کردار ، ان کے مصنف ،یہاں
کرسیوں پر مرے سامنے بیٹھے ہیں
ان کو پڑھنا، سمجھنا، ملاقات ہے،
ان ملاقاتوں میں کوئی ترتیب، آہنگ ، زمانی مکانی نہیں
( اور زمان و مکاں تو حقیقت نہیں)

میرا کمرہ سرائے ہے ہر عہد کا
بے تحاشا کتابیں، مصنف یہاں
کتنی صدیوں سے اس بحرِ اوہام کی مختلف سطحوں پر تیرتے ہی رہے

دیکھیے یہ ہے نابینا روتا ہوا
"اپنی گم گشتہ جنت” کی یادیں لیے
(ایسی جنت جو اب واہمہ ہے مرا)
کہیے اس سے کہ جنت کہیں بھی نہیں
اور اگر ہے تو اس کے سوا کچھ نہیں۔۔

اس طرف دیکھیے اک شجر ہے یہاں
اور یہی وہ شجر ، جس نے آدم کو حوا سے یکجا کیا
اس کے سائے میں کچھ منتظر جسم ہیں
"انتظارِ مسیحا ” میں گھلتے ہوئے

اس شجر کے تلے ایک اور جسم ہے
جذب کی کیفیت ، میں یہ مجذوب ہے
غرق ہے سوچ میں ،
دیکھیے، کیا ہوا۔۔
سیب نیچے گرا، پر مسیحا نہیں
وہ مسیحا جو آیا نہیں آج تک
(بلکہ وہ جو کبھی بھی نہیں آئے گا)
وہ تجاذب جو کھینچے بدن سیب کا
پر مسیحا پہ کوئی اثر نہ کرے
وہ تجاذب ، سمجھیے، مرا پیار ہے

میری کرسی کی بائیں طرف دیکھیے
ایک صاحب ہیں حیران بیٹھے ہوئے
غور سے چاروں جانب ، نگہ پھیرتے
اور کہتے ہوئے، "شک کرو، شک کرو”
( شک ہی گویا حقیقت کا اک روپ ہو)
اور حقیقت کی جو کوئی تعریف ہو
چاہے شک ہو، گماں ہو کہ کچھ بھی نہ ہو
میرے شک کے مناروں کی بنیادوں میں
اینٹ گارے کی صورت لگا ہے مگر
ایک اس کا وجودِ حقیقت نشاں

میز کی اس طرف مضطرب ہے کوئی
ڈاکٹر ہے، تجسس میں بیمار ہے
خیر و شر میں کسی پنڈولم کی طرح
جھولتی روح ہے،
خواہشِ جاودانی جسے کھا گئی
جیسے مجھ کو ترے قرب کی خواہشیں
کتنی صدیوں سے جھولے جھلاتی رہیں

وقت کتنا ہوا، اس ملاقات کو؟
کیا کہا وقت؟ کتنا؟ ملاقات کو؟
وقت تو بت ہے اپنا تراشا ہوا
یہ بھی ویسا ہے جیسے کہ ہم سب کسی ایک نادیدہ ہستی کی پوجا کریں
جب وہ دیکھا نہیں، تو بھلا کیسے اس کی مثالیں بنیں
اچھا، یوں ہی سہی ، وقت محسوس کرنے کی شے ہے تو پھر
اس کو محسوس کرنے میں بھی فرق ہے
اس تغیر تبدل کو مت حق کہو
فرق مانو، زماں کو نہ مطلق کہو

اس طرف ایک معذور سا شخص ہے
جو بظاہر تو کچھ بھی نہیں کہہ رہا
شاید اس نے جو مرتے ستاروں کے بارے میں لکھا ، پڑھا
اس کا اطلاق خود پر کیے جا رہا
گویا اس کا ہر اک لفظ ہے روشنی
جس کو اس کے بدن کے سیہ ہول نے
اس تجاذب کی شدت سے کھینچا، کہ اب
تیرگی ہی مسلط ہے چاروں طرف
کیجیے تھوڑا سا اب توقف یہاں
یہ جو مرتے ستارے کی روداد ہے
یہ ہی میری کہانی کی بنیاد ہے

راز احتشام

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
راز احتشام کی ایک اردو غزل