آپ کا سلاماردو غزلیاتروبینہ صدیق رانیشعر و شاعری

کھلنے لگے اس دل میں گلاب اور زیادہ

روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل

کھلنے لگے اس دل میں گلاب اور زیادہ
آتے ہیں مجھے تیرے ہی خواب اور زیادہ

میں نے تو محبت سے نوازا ہے سبھی کو
دنیا نے دئیے مجھ کو عذاب اور زیادہ

امکان ہے جل جائے نہ اب میرا مکاں بھی
گرتے ہیں زمیں پر یہ شہاب اور زیادہ

پھوٹے نہ کہیں دل سے کوئی خون کا دھارا
بپھرا ہے مرے دل کا چناب اور زیادہ

اک بار جو نفرت کا لیا نام کسی نے
میں نے پڑھے الفت کے نصاب اور زیادہ

میں نے تو کبھی درد سے شکوہ نہ کیا تھا
لیتا رہا کیوں درد حساب اور زیادہ

اس پیاس کو کیسے بھلا سمجھاؤں میں رانی
صحرا نے دکھانے ہیں سراب اور زیادہ

روبینہ صدیق رانیؔ

post bar salamurdu

روبینہ صدیق رانی

نام روبینہ صدیق قلمی نام :روبینہ صدیق رانی 23 اپریل 1996روشنیوں کےشہر کراچی میں پیدا ہوئی اپنی ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی اور اپنی باقی زندگی بھی یہیں گزارنے کا ارادہ رکھتی ہوں ۔ شاعری کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی طبع ازمائی کر چکی ہوں ۔ فی الحال کوئی شعری مجموعہ نہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button