اردو غزلیاتجون ایلیاشعر و شاعری

اب کسی سے مرا حساب نہیں

جون ایلیا کی اردو غزل

اب کسی سے مرا حساب نہیں
میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں

خون کے گھونٹ پی رہا ہوں میں
یہ مرا خون ہے شراب نہیں

میں شرابی ہوں میری آس نہ چھین
تو مری آس ہے سراب نہیں

نوچ پھینکے لبوں سے میں نے سوال
طاقت شوخئ جواب نہیں

اب تو پنجاب بھی نہیں پنجاب
اور خود جیسا اب دو آب نہیں

غم ابد کا نہیں ہے آن کا ہے
اور اس کا کوئی حساب نہیں

بودش اک رو ہے ایک رو یعنی
اس کی فطرت میں انقلاب نہیں

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button