اردو غزلیاتشعر و شاعریعدیم ہاشمی

شور سا ایک، ہر اک سمت بپا لگتا ہے

عدیم ہاشمی کی اردو غزل

شور سا ایک، ہر اک سمت بپا لگتا ہے
وہ خموشی ہے کہ لمحہ بھی صدا لگتا ہے

کتنا سا کت نظر آتا ہے ہواؤں کا بدن
شاخ پر پھول بھی پتھرایا ہوا لگتا ہے

چیخ اٹھتی ہوئی ہر گھر سے نظر آتی ہے
ہر مکاں شہر کا، آسیب زدہ لگتا ہے

آنکھ ہر راہ سے چپکی ہی چلی جاتی ہے
دل کو ہر موڑ پہ کچھ کھویا ہوا لگتا ہے

کتنا حاسد ہوں کہ اک تو ہی مرا اپنا ہے
اور تو ٹھیک سے ہنستا بھی برا لگتا ہے

میرے احساس نے ساون میں گنوائی ہے نظر
مجھ کو سوکھا ہوا جنگل بھی ہرا لگتا ہے

عدیم ہاشمی 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button