جاب کرنا ہے تو سرکاری نہ کر
بے وجہ اپنی گرفتاری نہ کر
پِس نہ جاؤں میں ترے قدموں تلے
جسم اپنا اس قدر بھاری نہ کر
زندگانی ہے گزر ہی جائے گی
زندگی کے خوف کو طاری نہ کر
یہ حسینائیں بہت ہشیار ہیں
بے سبب ان کی طرفداری نہ کر
چار کی رکھی ہے گنجائش کہ تو
خواہ مخواہ ہر در پہ منہ ماری نہ کر
خود تو مے خانے سے ٹلتے ہی نہیں
ہم سے کہتے ہیں کہ مے خواری نہ کر
لوگ کہتے ہیں سفارش گر نہیں
نوکری مت ڈھونڈ اور خواری نہ کر
بے عمل کو عِلم سے کیا فائدہ
صرف مظہر بار بُرداری نہ کر
ڈاکٹر سید مظہر عباس رضوی








