- Advertisement -

کچھ اس طرح وہ مری زندگی کے پاس آئے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

کچھ اس طرح وہ مری زندگی کے پاس آئے
سنبھل سنبھل کے ٹھکانے مرے حواس آئے

تو ہی بتا کہ اسے کس طرح میں سمجھاؤں
تری شکایتیں لے کر جو میرے پاس آئے

حیات راس نہ آئی اگرچہ دل میں مرے
بدل بدل کے امیدوں کا وہ لباس آئے

کل ان کی بزم میں گزری ہے تم پہ کیا باقیؔ
کہ شاد شاد گئے اور اداس اداس آئے

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل