اردو غزلیاتاعجاز عزائیشعر و شاعری

یہ الگ بات کہاں ہم ہیں تمہارے لائق

ایک اردو غزل از اعجاز عزائی

یہ الگ بات کہاں ہم ہیں تمہارے لائق
ہم ہیں حاضر کوئی خدمت ہو ہمارے لائق

توڑ دیتے ہیں جو برسوں کا تعلق یک دم
ایسے احباب ہمیشہ ہیں خسارے لائق

کچھ مکاں ایسے ہیں، جنت کا گماں ہوتا ہے
کچھ مکاں ہوتے ہیں لوگوں کے گزارے لائق

پھر بھی وہ شکرِ خداوندی بجا لاتے ہیں
رزق ملتا ہے جنہیں روز گزارے لائق

سوچ کر اتنا مری روح تڑپ اٹھتی ہے
کیا پیمبر بھی کبھی ہوتے ہیں آرے لائق

نرم گفتار تری قابلِ تحسین ہے دوست
پوچھتے رہتے ہیں اکثر ترے بارے لائق

مری کم مائیگی اک روز مجھے کہنے لگی
شاعروں میں بھی کہاں ہوتے ہیں سارے لائق

ہم کو اس بات کا افسوس عزائی ہے بہت
دستِ جاہل سے ہوئے قتل بے چارے لائق

(اعجاز عزائی)

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button