کیسے جکڑو گے گرانبار سلاسل میں مجھے
کیسے مفلوج کرو گے میری آزادی کو
میں نے مانا کہ تیری زلفیں ہیں ناگن کی طرح
تیرے رخساروں پہ شعلے تیرے ہاتھوں پہ حنا
تیری محجوب نگاہوں میں کبھی مستی و کیف
تیری بے باک نگاہوں میں کبھی شرم و حیا
کبھی ہوتا ہے تیری چال پہ نغمے کا گماں
کبھی تو رقص میں ہوتی ہے مثال صہبا
بخش دیتی ہے بصد ناز کبھی سوز دوام
نذر نسیاں کبھی کر دیتی ہے سب مہر و وفا
میں نے مانا کہ یہ زنجیریں حسیں ہیں لیکن
ایسی زنجیروں سے کیا قید کرو گے مجھ کو
آتشیں سانسوں سے تخلیق ہوئی میری حیات
مضطرب ہارے سے صیقل ہوا جوہر میرا
مجھ کو بخشی گئی مدقوق ستاروں کی خلش
زرد شعلوں کی ضیا سرد نگاہوں کی جفا
سونپ دی جرات بے باک نے مجھ کو وحشت
میری نس نس کو بہیمانہ و رندانہ ادا
میرے انکار میں بپھری ہوئی ندیوں کا خروش
میری اقرار میں ٹوٹے ہوئے بربط کی نوا
کہو مفلوج کرو گے میری آزادی کو
منزہ انور گوئیُندی








