- Advertisement -

بن تری دید کے کس طرح گزارہ ہو گا

ایک اردو غزل از شبیرنازش

بن تری دید کے کس طرح گزارہ ہو گا
تو نہ ہو گا تو مجھے کس کا سہارا ہو گا

آ! گلے مِل کے ابھی ہجر کا ماتم کر لیں
کس کو معلوم؟ کہاں میل دوبارہ ہو گا

یا تری دید کی خواہش نے چمک بخشی ہے
یا رہِ خاک نے چہرے کو نکھارا ہو گا

آج کس منہ سے گلہ کرتے ہو لُٹ جانے کا
میں نا کہتا تھا محبت میں خسارہ ہو گا

ہر نئے سال یہاں بانس نئے اُگتے ہیں
اِس جگہ دفن کوئی درد کا مارا ہو گا

زندگی عجز کے لمحوں میں گزارو اپنی
وقت کے شاہ بنو گے تو خسارہ ہو گا

شبیرنازش

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از شبیرنازش