اختر عثماناردو غزلیاتشعر و شاعری

ساحل سے واپس ہو لیے

اختر عثمان کی ایک اردو غزل

ساحل سے واپس ہو لیے سارے صدف رستہ نہ تھا
گم ہو گئے گرداب میں گوہر بکف رستہ نہ تھا

رکھی تھی اک سل راہ میں ہستی کا حاصل راہ میں
آنکھیں تھیں حائل راہ میں دل کی طرف رستہ نہ تھا

خاموش تھے اہلِ سخن چپ چاپ تھا پتوں کا بن
کیسی لگن کیسی چبن کیسا شرف رستہ نہ تھا

زخموں سے رِستا تھا لہو آساں نہ تھا کارِ رفو
نا پید تھے نم اور نمو خوش تھے حذف رستہ نہ تھا

صحرا سے گھر تک دُھول تھی، راہِ سفر تک دُھول تھی
حدِ نظر تک دُھول تھی ، چاروں طرف رستہ نہ تھا

سارے بدن پر تھا کلف ، گویا ہوا تھی برطرف
چلتا تھا میں سوئے نجف، بَجتی تھی دف رستہ نہ تھا

زنجیر تھے اہلِ جنوں اخترؔ نگر پر تھا فسوں
اُلٹے ہوئے کچھ آئینے تھے صف بہ صف رستہ نہ تھا

اختر عثمان​

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button