ادا جعفریاردو نظمشعر و شاعری

ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی

ادا جعفری کی ایک غزل

ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی

اس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھی

وہی خانہ بدوش امیدیں

وہی بے صبر دل کی خو ہے ابھی

دل کے گنجان راستوں پہ کہیں

تیری آواز اور تو ہے ابھی

زندگی کی طرح خراج طلب

کوئی درماندہ آرزو ہے ابھی

بولتے ہیں دلوں کے سناٹے

شور سا یہ جو چار سو ہے ابھی

زرد پتوں کو لے گئی ہے ہوا

شاخ میں شدت نمو ہے ابھی

ورنہ انسان مر گیا ہوتا

کوئی بے نام جستجو ہے ابھی

ہم سفر بھی ہیں رہ گزر بھی ہے

یہ مسافر ہی کو بہ کو ہے ابھی

ادا جعفری

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button