اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

چشم نظارہ پہ کیا کوئی بھی الزام نہ تھا

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

چشم نظارہ پہ کیا کوئی بھی الزام نہ تھا
چاندنی رات تھی اور کوئی لب بام نہ تھا

وہم تھا لوگ مرا راستہ تکتے ہوں گے
آ کے دیکھا تو کسی لب پہ مرا نام نہ تھا

اس طرح باغ سے چپ چاپ گزر آئے ہیں
جیسے پھولوں کی مہک میں کوئی پیغام نہ تھا

عمر بھر اپنی ہی گردش میں رہے ہم باقیؔ
اس جگہ دل تھا جہاں اور کوئی دام نہ تھا

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button