- Advertisement -

Thaani Thi Dil Mein

An Urdu Ghazal By Momin Khan Momin

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

پر کیا کریں کہ ہوگئے ناچار جی سے ہم

ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہم

منہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بیکسی سے ہم

ہم سے نہ بولو تم اسے کیا کہتے ہیں بھلا

انصاف کیجئے پوچھتے ہیں آپ ہی سے ہم

بے زار جان سے جو نہ ہوتے تو مانگتے

شاہد شکایتوں پہ تری مدعی سے ہم

اس کو میں جا مریں گے مدد اے ہجوم شوق

آج اور زور کرتے ہیں بے طاقتی سے ہم

صاحب نے اس غلام کو آزاد کردیا

لو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی سے ہم

بے روئے مثل ابر نہ نکلا غبار دل

کہتے تھے ان کو برق تبسم ہنسی سے ہم

ان ناتوانیوں پہ بھی تھے خار راہ غیر

کیوں کر نکالے جاتے نہ اس کی گلی سے ہم

کیا گل کھلے گا دیکھئے، ہے فصل گل تو دور

اور سوئے دشت بھاگتے ہیں کچھ ابھی سے ہم

منہ دیکھنے سے پہلے بھی کس دن وہ صاف تھا

بے وجہ کیوں غبار رکھیں آرسی سے ہم

ہے چھیڑ اختلاط بھی غیروں کے سامنے

ہنسنے کے بدلے روئیں نہ کیوں گدگدی سے ہم

وحشت ہے عشق پردہ نشیں میں دم بکا

منہ ڈھانکتے ہیں پردۂ چشم پری سے ہم

کیا دل کو لے گیا کوئی بیگانہ آشنا

کیوں اپنے جی کو لگتے ہیں کچھ اجنبی سے ہم

لے نام آرزو کا تو دل کو نکال لیں

مومن نہ ہوں جو ربط رکھیں بدعتی سے ہم

(مومن خان مومن)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Jaun Elia