آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعری

ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے

طارق اقبال حاوی کی ایک اردو غزل

ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے
کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے

یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں
ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے

پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟
تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے

"عاجز” و "شاکر” ہو کر ہی ملے ہے "قربت”
عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے

اس قدم کے پیچھے کی، حقیقت کو بھی کھوج
کیوں میرا قتل کا، بس اعتراف دکھتا ہے

کامل فن ہے چہروں کو پڑھنا حاوی
ٹوٹے دل کا کب کوٸی شگاف دکھتا ہے

طارق اقبال حاوی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button