آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعمران ہاشمی

چھوٹا ہُوا ہوں غم کے

عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل

چھوٹا ہُوا ہوں غم کے، خوشی کے، عذاب سے
رہتا ہوں جب سے اپنے جنوں کے حساب سے

آزاد ہو کے کیوں نہ مَیں دیکھوں خود اپنا آپ
کب تک بندھا رہوں یونہی تعبیر و خواب سے

اندیشے اس طرح سے جُڑے ہیں خیال سے
وابستہ جس طرح سے ہیں کانٹے گلاب سے

کب تک ذلیل و خوار، رہیں گے ذلیل و خوار
معلوم کیجئے کسی عزّت مآب سے

کچھ اس لیے بھی سادہ ورق دل کا رہ گیا
اُمّید اُٹھ گئی تھی تمنا کے باب سے

اتنی قیامتوں سے گزرتا ہوں ہر گھڑی
جی اُٹھ گیا ہے میرا عذاب و ثواب سے

عمران ہاشمی

post bar salamurdu

عمران ہاشمی

شاعر، افسانہ نگار، کالمسٹ - شعری مجموعہ ’’عکسِ جاں‘‘۲۰۱۱ - ادبی وابستگی: حلقہ اربابِ ذوق گوجرانوالہ - انجمن ترقی پسند مصنفین گوجرانوالہ و پنجاب - آغازِ شاعری 2001 - مینجنگ ڈائریکٹر: عامی پرنٹنگ پریس گوجرانوالہ - بن ہاشم پبلیکیشنز گوجرانوالہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button