جنرل (ر) فیض حمید کی سزا اور ریاستی احتساب کا سوال
پاکستان کی تاریخ میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو وقتی خبروں سے آگے بڑھ کر قومی شعور کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا بھی اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ محض ایک سابق اعلیٰ فوجی افسر کے خلاف عدالتی کارروائی نہیں بلکہ طاقت، سیاست، ریاستی اداروں اور احتساب کے اس پیچیدہ رشتے کی عکاس ہے جس پر برسوں سے سوال اٹھتے رہے ہیں مگر جواب کم ہی ملے۔
جنرل فیض حمید کا نام پاکستانی سیاست میں کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔ بطور ڈی جی آئی ایس آئی ان کا کردار ایک ایسے دور سے جڑا ہوا ہے جب ریاستی طاقت کے مراکز، سیاسی
فیصلوں اور حکومت سازی کے معاملات پر مسلسل بحث جاری رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کو محض ایک انفرادی مقدمہ سمجھنا سادہ لوحی ہوگی۔ یہ معاملہ اس پورے نظام سے جڑا ہوا ہے جس میں طاقت کبھی پس پردہ اور کبھی اعلانیہ سیاست پر اثر انداز ہوتی رہی۔
مقدمے کا آغاز فوجی قوانین کے تحت ہوا اور فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے کارروائی مکمل کی گئی۔ ریاستی اداروں کا مؤقف یہ ہے کہ یہ ایک داخلی احتسابی عمل ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ بظاہر یہ دلیل درست معلوم ہوتی ہے مگر پاکستان جیسے ملک میں جہاں ماضی میں طاقت اور سیاست ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے رہے ہوں وہاں ہر فیصلہ اپنے ساتھ کئی سوالات بھی لے کر آتا ہے۔
الزامات کی نوعیت خود اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسئلہ محض نظم و ضبط کا نہیں بلکہ ریاستی حدود کا ہے۔ سیاسی معاملات میں مداخلت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور حساس معلومات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ایسے الزامات ہیں جو فرد سے زیادہ پورے نظام کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ یہ الزامات دراصل اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ جب ریاستی طاقت بے لگام ہو جائے تو قانون اور سیاست دونوں کمزور پڑ جاتے ہیں۔
عدالتی کارروائی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور ملزم کو صفائی کا مکمل حق دیا گیا۔ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر عوامی اعتماد کیسے بحال کیا جائے۔ شفافیت صرف انصاف کے لیے نہیں بلکہ انصاف پر یقین پیدا کرنے کے لیے بھی ضروری ہوتی ہے۔
سزا کا اعلان اس پورے معاملے کا فیصلہ کن لمحہ تھا۔ ایک ایسے افسر کو طویل قید کی سزا دینا جو ماضی میں طاقت کے مرکز کے قریب سمجھا جاتا رہا ہو، ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ کچھ حلقے اسے قانون کی بالادستی کا آغاز قرار دے رہے ہیں اور کچھ اسے طاقت کے اندرونی توازن میں تبدیلی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔
حکومتی اور عسکری بیانیہ اس فیصلے کو ادارہ جاتی احتساب کی مثال کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اگر واقعی احتساب کا یہ عمل خلوص نیت پر مبنی ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر یہاں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ احتساب مستقل ہوگا یا یہ محض ایک مخصوص دور اور مخصوص کردار تک محدود رہے گا۔
فوج اور سیاست کا تعلق پاکستان کی تاریخ کا سب سے حساس موضوع رہا ہے۔ ہر بحران کے بعد یہ بات کی جاتی رہی کہ اب ادارے اپنی حدود میں رہیں گے مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی پرانے سوال دوبارہ سر اٹھا لیتے ہیں۔ جنرل فیض حمید کا مقدمہ اس بحث کو ایک نئی زندگی دے رہا ہے اور یہ پوچھنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا واقعی اب ایک نیا باب کھل رہا ہے یا یہ بھی ماضی کی طرح ایک وقتی مرحلہ ثابت ہوگا۔
سیاسی تناظر میں یہ فیصلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ چونکہ جنرل فیض حمید کو ایک سابق سیاسی دور سے جوڑا جاتا رہا ہے اس لیے بہت سے لوگ اس فیصلے کو سیاست سے الگ ہو کر دیکھنے پر تیار نہیں۔ اگر یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا تو احتساب کا تصور کمزور پڑ سکتا ہے کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
میڈیا اور عوامی ردعمل اس بات کی واضح علامت ہے کہ معاشرہ اب طاقتور طبقات کے احتساب کے معاملے پر سنجیدہ ہو چکا ہے۔ کچھ لوگ اسے امید کی کرن سمجھتے ہیں اور کچھ اسے دیر سے لیا گیا مگر ضروری قدم قرار دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب محض نعروں سے مطمئن نہیں بلکہ عملی مثالیں چاہتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو غور سے دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی میڈیا نے اسے پاکستان میں سول ملٹری تعلقات اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے تناظر میں رپورٹ کیا ہے۔ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ دنیا اب ریاستوں کا جائزہ محض معیشت یا خارجہ پالیسی سے نہیں بلکہ داخلی شفافیت اور قانون کی عمل داری سے بھی لیتی ہے۔
قانونی طور پر یہ معاملہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ اپیل کا حق موجود ہے اور آئندہ مراحل اس مقدمے کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ فیصلہ کس سمت میں جاتا ہے اور ریاست اس سے کیا سیکھتی ہے۔
آخر میں اصل سوال یہی ہے کہ کیا جنرل فیض حمید کی سزا ایک فرد کے احتساب تک محدود رہے گی یا یہ ریاستی رویے میں مستقل تبدیلی کا آغاز ثابت ہوگی۔ اگر طاقت کے ہر مرکز کو جواب دہ بنایا گیا تو یہ فیصلہ تاریخ میں مثبت موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ بھی ماضی کے کئی فیصلوں کی طرح ایک مثال بن کر رہ جائے گا جس سے امید تو بندھی مگر انجام تک نہ پہنچی۔
یوسف صدیقی








