آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

چلے جاتے تو ہیں پر لوٹتے ہیں

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

چلے جاتے تو ہیں پر لوٹتے ہیں
اداسی کے پیمبر لوٹتے ہیں

تمہاری سمت آنا اب ہے ایسے
کہ جیسے ہارے لشکر لوٹتے ہیں

نہ انکی رہگزر روکو کبھی تم
یہ دریا ہیں ، بپھر کر لوٹتے ہیں

چراغِ شب بجھا تو تیرگی کا
ستانے لگ گیا ڈر ، لوٹتے ہیں

نکالو لاکھ ان کو شہرِ دل سے
یہ اندیشے ہیں خود سر ، لوٹتے ہیں

وہی کھاتے ہیں ٹھندی روٹیاں ، جو
کما کر دیر سے گھر لوٹتے ہیں

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button