اردو غزلیاتشعر و شاعریقمر رضا شہزاد

نہ اپنے آپ کو اس طرح در بدر رکھتے

قمر رضا شہزاد کی اردو غزل

نہ اپنے آپ کو اس طرح در بدر رکھتے

پلٹ کے آتے اگر ہم بھی کوئی گھر رکھتے

عجیب وحشت شب تھی کہ شام ڈھلتے ہی

تمام لوگ منڈیروں پر اپنے سر رکھتے

جو اپنی فتح کے نشے میں چور تھے وہ بھلا

سلگتے شہر کے منظر پہ کیا نظر رکھتے

یہ اور بات کہ سرسبز تھے بہت لیکن

ہم ایسے پیڑ نہ بن پائے جو ثمر رکھتے

جنہیں ہوا کی رفاقت عزیز تھی شہزادؔ

وہ اپنے پاؤں بھلا کیا زمین پر رکھتے

قمر رضا شہزاد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button