آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری
خمار ایک وہم ہے , خمار کی طلب نہیں
ایک اردو غزل از ارشاد نیازی
خمار ایک وہم ہے , خمار کی طلب نہیں
مرے دماغ و دل کو اختیار کی طلب نہیں
میں نقش ہوں دھلا ہوا, کِھلا ہوا, کُھلا ہوا
مجھے نمود و نام کے , غبار کی طلب نہیں
پکاریئے شکستگاں , لہو کے اشتعال کو
ہمیں تو اب وصال کے دیار کی طلب نہیں
فنا مری حریف ہے , پرےہی رہ,سنبھل کے رہ
بدن, یہاں مجھے ترے حصار کی طلب نہیں
میں خاک پر پڑا ہوا ہوں انتظار کے سبب
پروں پہ اختیار ہے , پکار کی طلب نہیں
ارشاد نیازی








