آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحمد یوسف برکاتی

رب تعالیٰ سے تجارت

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو کو میرا آداب

مختصر مگر اہم بات کے موضوع پر آج جو اہم بات اہم سبق اور ایک اہم نقطہ پر روشنی ڈالنے کی میں نے کوشش کی ہے اس کا تعلق بھی ہماری زندگی سے بہت گہرا ہے اور ایک کثیر تعداد لوگوں کی اس مسئلے میں پھنسی ہوئی دکھائی دیتی ہے ہمارے درمیان کئی ایسے لوگ موجود ہیں جو بڑی بڑی محفلوں کا انتظام کرتے ہیں اپنے گھر کی شادیوں میں بیشمار پیسہ خرچ کرتے ہیں لیکن سوائے چند لوگوں کے یہ بات کس کو معلوم ہوتی ہے کہ ان کا کمایہ ہوا پیسہ جائز ہے کہ نہیں اور کیا ان کے یہ عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قابل قبول ہیں کہ نہیں ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیشمار جگہوں پر رزق حلال کی تاکید کی ہے اور حرام سے بچنے کی تاکید بھی کی ہے جیسے سورہ البقرہ کی 168 آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(168)

ترجمہ کنزالایمان ۔
اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
( سورہ البقرہ آیت 168 )
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حلال اور حرام کے بارے میں احادیث مبارکہ میں بھی سرکار مدینہ حضور ﷺ کے ہمیں بیشمار جگہوں پر فرمان نظر آتے ہیں حدیث کی معروف کتاب صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ” حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے، وہ بیمار تھے۔ ابن عامر نے کہا: ‘اے ابن عمر! کیا آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں گے؟’ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: "نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور صدقہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال سے قبول نہیں ہوتا۔” اور آپ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں (مبادا کہ آپ کے پاس کوئی ایسا مال آ گیا ہو)۔
( صحیح مسلم شریف حدیث 535 )
یہ ہی نہیں ہمیں تاریخ اسلام میں ایسے کئی واقعات بھی ملتے ہیں جس میں ہمیں حلال کی برکت اور حرام کی نحوست سے آگاہی ملتی ہے
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں مجھے علم ہے کہ آپ میں سے بیشتر لوگ ” امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ” کے نام سے بخوبی واقف ہوں گے اور یہ نام سنا ہوگا نعمان ابن ثابت بن زوطا بن مرزبان عرف امام ابو حنیفہ اور خاص طور پر
وہ لوگ جو انہیں ماننے اور ان کی تقلید کرنے والے لوگ ہیں وہ حنفی کہلاتے ہیں ایک دفعہ آپ علیہ الرحمہ نے ایک شخص کو ایک جگہ سے سیب چوری کرتے ہوئے دیکھا تو آپ علیہ الرحمہ نے سوچا کہ شاید کوئی ضرورت مند ہے دوسرے دن آپ علیہ الرحمہ نے پھر اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھا آپ علیہ الرحمہ نے دوبارہ وہی سوچا اور درگزر کردیا لیکن جب تیسرے دن آپ علیہ الرحمہ نے دیکھا تو سوچا کہ میں دیکھوں کہ آخر یہ سیب کا کیا کرتا ہے لہذہ آپ علیہ الرحمہ نے اس کا پیچھا کیا تھوڑی دور جاکر آپ علیہ الرحمہ نے دیکھا کہ اس نے وہ سیب ایک بچے کو دے دیا جو مانگنے والا تھا آپ علیہ الرحمہ حیران ہوگئے اور بالآخر اسے روک کر پوچھا کہ یہ تم کیا کرتے ہو تو اس شخص نے جواب میں کہا کہ میں اللہ تعالیٰ سے تجارت کرتا ہوں یہ بات سن کر آپ علیہ الرحمہ نے پوچھا وہ کیسے تو اس شخص نے کہا کہ میں سیب چوری کرکے ایک گناہ کا ارتکاب کرتا ہوں جبکہ وہی سیب صدقہ کرکے دس نیکیاں کما لیتا ہوں اب اگر ایک گناہ کے بدلے مجھے دس نیکیاں مل جائیں تو یہ گھاٹے کا سودہ تو نہیں ہے کیا خیال ہے آپ علیہ الرحمہ کا ؟
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے اس کو بٹھایا اور سمجھایا کہ یہ تم سراسر گھاٹے کا سودہ کررہے ہو تو اس نے کہا وہ کیسے تو آپ علیہ الرحمہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ چوری کرنا اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کا ناپسندیدہ عمل ہے اور چوری کرنے کی قرآن و حدیث میں شدید ممانعت کی گئی ہے اور اس طرح وہ سیب تمہارے لیئے حرام ہو جاتا ہے لہذہ حرام چیز کا صدقہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہیں صدقہ ، خیرات اور زکوٰۃ ہمیشہ صاف ستھرے اور پاکیزہ مال پر ہی ہوتی ہے اور اسی مال پر اللہ تعالیٰ اجروثواب عطا فرماتا ہے حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کی بات سن کر وہ شخص رونے لگا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنے لگا
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں قرآن میں موجود آیتوں احادیث کی کتابوں میں موجود احادیث اور ایسے واقعات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ناجائز طریقے سے کمائی ہوئی دولت پر اگر کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور اس کی نیت اجروثواب کمانے کی ہے تو ایسا ممکن نہیں پہلے اسے اپنا مال پاک کرنا ہوگا آج کی اس مختصر مگر اہم بات میں یہ ہی بتانا مقصود تھا کیونکہ ہمارے یہاں کثیر تعداد لوگوں کی ایسی ہے جو مالدار بھی اور دولت مند بھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے نظر بھی آتے ہیں لیکن ان کا وہ خرچ ناجائز طریقے سے کمائے ہوئے پیسے سے ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ناقابل قبول ہوتا تھوڑا کمائے تھوڑا خرچ کریں اور تھوڑا کھائیں لیکن حلال کھائیں آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں حلال روزی کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور شیطان مردود سے بچتے ہوئے حرام سے بچنے کی بھی توفیق عطا فرمائے مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف برکاتی
post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button