آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرحانہ عنبر

کتنے خدشوں نے سر نکالے تھے

فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل

کتنے خدشوں نے سر نکالے تھے
جب پرندے نے پر نکالے تھے

چند تارے تمہاری یادوں کے
میں نے وقتِ سحر نکالے تھے

تجھ سے دوری کے وسوسے دل سے
تھے تو دشوار پر نکالے تھے

تھی تو مصروفیت تری خاطر
چند لمحے مگر نکالے تھے

صنفِ نازک نے کتنی مشکل سے
اپنے اندر کے ڈر نکالے تھے

بادباں کے نکالے بل میں نے
کشتیوں سے بھنور نکالے تھے

ہوش والوں کی بزم سے عنبر
آج کچھ بے خبر نکالے تھے

فرحانہ عنبر

post bar salamurdu

فرحانہ عنبر

نام۔۔فرحانہ عنبر شہر۔۔۔گوجرانوالہ شاعری وراثت میں ملی میرے دادا نصیر احمد ناصر بہت اچھے شاعر تھے۔ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہے ۔ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں کہتی ہوں اور اپنا کلام ترنم میں بھی پیش کرتی ہوں۔ بچپن سے نعت ،حمڈ،منقبت ،غزل گانا سب میں رول پلے کرتی رہی ہوں اور بے شمار انعامات حاصل کر چکی ہوں۔ آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن سے شان پاکستان ایورڈ اور بہت سے دوسرے ایوارڈ حاصل کیے۔ تین انتخاب آ چکے ہیں حسن انتخاب دشت دروں سانجھیاں سوچاں ایک شعری مجموعہ ۔۔چلے آو نا۔۔۔پچھلے سال منظر عام پر آیا ۔ دوسرا شعری مجموعہ۔۔۔میری آنکھیں نہیں ستارے ہیں۔۔۔پروف ریڈنگ کے مرحلے میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button