اردو غزلیاتجگر مراد آبادیشعر و شاعری

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس

جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

عشق جب تک نہ کر چکے رسوا
آدمی کام کا نہیں ہوتا

ٹوٹ پڑتا ہے دفعتاً جو عشق
بیشتر دیر پا نہیں ہوتا

وہ بھی ہوتا ہے ایک وقت کہ جب
ماسوا ماسوا نہیں ہوتا

ہائے کیا ہو گیا طبیعت کو
غم بھی راحت فزا نہیں ہوتا

دل ہمارا ہے یا تمہارا ہے
ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا

جس پہ تیری نظر نہیں ہوتی
اس کی جانب خدا نہیں ہوتا

میں کہ بے زار عمر بھر کے لیے
دل کہ دم بھر جدا نہیں ہوتا

وہ ہمارے قریب ہوتے ہیں
جب ہمارا پتا نہیں ہوتا

دل کو کیا کیا سکون ہوتا ہے
جب کوئی آسرا نہیں ہوتا

ہو کے اک بار سامنا ان سے
پھر کبھی سامنا نہیں ہوتا

جگر مراد آبادی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button