آپ کا سلاماردو غزلیاترفیق لودھیشعر و شاعری

ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں

ایک اردو غزل از رفیق لودھی

ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں
حادثوں کی نظر میں رہتے ہیں

چاند سورج میں آپ کا چہرہ
آپ شام و سحر میں رہتے ہیں

ہم سے بھی مل کبھی گھڑی بھر کو
ہم بھی تیرے نگر میں رہتے ہیں

گفتگو میں تمھی جھلکتے ہو
ہم تمھارے اثر میں رہتے ہیں

اس کی یادیں بسی ہیں یوں مجھ میں
جیسے پنچھی شجر میں رہتے ہیں

ہم دھوئیں کی مثال ہیں لودھی
ہم ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں

رفیق لودھی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button