آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا پاکستان میں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں؟

محسن خالد محسنؔ کی ایک اردو تحریر

یہ سوال آج کے پاکستان میں صرف ایک سوال نہیں بلکہ ایک اجتماعی آہ ہے۔ وہ والدین جو فیسیں ادا کرتے کرتے تھک چکے ہیں، وہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے نوکری کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں اور وہ اُستاد جو اپنے ادارے کے بند ہونے کا خوف دل میں لیے کلاس میں کھڑا ہے یہی سوال پوچھ رہا ہے کہ کیا واقعی تعلیم بے فائدہ ہو چکی ہے۔
جب ایک ریاست اپنے تعلیمی ادارے بند کرنا شروع کر دے، سکولوں کو پرائیویٹائز کرے، ہزاروں ملازمین کی سیٹس ختم کرے اور تعلیم کو فضول خرچ سمجھنے لگے تو وہاں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ہزاروں سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنا اور مختلف محکموں میں لاکھوں آسامیوں کا خاتمہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح بچت کرکے ملک ترقی کرے گا یا اپنی بنیادیں مزید کمزور کرے گا؟
دُنیا کی کوئی بھی ترقی یافتہ قوم تعلیم کو بوجھ نہیں سمجھتی۔ جاپان دوسری جنگِ عظیم کے بعد ملبے کا ڈھیر تھا مگر اس نے سب سے پہلے سکول اور یونیورسٹیاں مضبوط کیں۔ جنوبی کوریا نے غربت سے نکلنے کے لیے تعلیم کو ہتھیار بنایا۔ فن لینڈ آج دُنیا کے بہترین تعلیمی نظام کی مثال ہے۔ وہاں تعلیم مفت ہے کیونکہ ریاست جانتی ہے کہ تعلیم خرچ نہیں سرمایہ کاری ہے۔
نیلسن منڈیلا نے کہا تھا
Education is the most powerful weapon which you can use to change the world
تعلیم دُنیا بدلنے کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے تو پاکستان میں یہی ہتھیار کیوں کمزور کیا جا رہا ہے؟
ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کو فوری منافع کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی ادارے سے فوری پیسہ منافع کی صورت واپس نہ آئے تو اسے غیر ضروری سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ سوچ خطرناک ہے اور بیمار ذہن کی علامت ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک سکول بند کرنے سے چند لاکھ کی بچت ہو سکتی ہے مگر ایک نسل کی تباہی کا حساب کون دے گا۔
والدین بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں مگر مہنگائی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ آٹا،بجلی، گیس، دوائی اور کرایہ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے میں سکول کی فیس، کتابیں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ ایک متوسط طبقے کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ غریب آدمی پہلے پیٹ بچاتا ہے پھر خواب اور تعلیم اکثر اسی خواب کے ساتھ دفن ہو جاتی ہے۔
دوسری طرف حکمران طبقہ اپنی شاہ خرچیوں میں مصروف ہے۔ برسرِ اقتدار طبقہ کو سرکاری پروٹوکول، غیر ملکی دورے اور بے شمار مراعات جاری ہیں۔ عوام کو کفایت شعاری کا درس دینے والے خود آسائشوں کے محل میں رہتے ہیں۔ جب ریاست خود مثال نہ دے تو قربانی کا مطالبہ ظلم محسوس ہوتا ہے۔
یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ شاید پاکستان صرف امیر طبقے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اچھے سکول ان کے لیے، اچھے ہسپتال ان کے لیے، محفوظ نوکریاں ان کے لیے اور باقی عوام کے لیے صرف صبر۔ غریب کا بچہ اگر تعلیم حاصل کر بھی لے تو سفارش اور نظام کی ناانصافی اس کا راستہ روک دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی کا نوجوان اپنے ملک سے مایوس ہو رہا ہے۔

علامہ اقبال نے کہا تھا:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

مزے کی بات یہ کہ جب فرد کو تعلیم ہی نہ دی جائے تو وہ ستارہ کیسے چمکے گا؟
ادارے ختم کرنے سے ملک ترقی نہیں کرتا۔ ادارے ریاست کی ہڈیاں ہوتے ہیں۔ اگر آپ مسلسل انہیں توڑتے رہیں تو جسم کھڑا نہیں رہ سکتا۔ سکول، کالج، یونیورسٹیاں، تحقیقی مراکز اور تربیتی ادارے کسی بھی قوم کی فکری بنیاد ہوتے ہیں۔ ان کے بغیر صرف عمارتیں بچتی ہیں ریاست نہیں۔
آج کا ٹین ایج سوشل میڈیا کے زیر اثر تیزی سے بدل رہا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ شہرت فوری چاہیے، پیسہ فوری چاہیے اور زندگی بھی فوری کامیابی مانگتی ہے۔ جب اسے نظر آتا ہے کہ برسوں پڑھنے والے بے روزگار ہیں اور شارٹ کٹ لینے والے مہنگی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں تو اس کا اعتماد تعلیم سے اُٹھنے لگتا ہے۔
اسی خلا میں پورن انڈسٹری،ولگر ویڈیوز اور آن لائن جسم فروشی کے نیٹ ورک نوجوان ذہنوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مختلف ایپس اور پلیٹ فارمز نے جسم کو بھی بازار بنا دیا ہے۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں شارٹ کٹ سے پیسہ کمانے کے جال میں پھنس رہے ہیں۔ یہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور تعلیمی بحران کا نتیجہ ہے۔ جب ریاست باعزت راستے بند کرتی ہے تو غیر اخلاقی و غیر قانونی راستے خود بخود کھل جاتے ہیں۔
سوشیالوجسٹ زیگمنٹ باومن نے لکھا تھا کہ "جب معاشرہ انسان کو صرف اس کی مارکیٹ ویلیو سے ناپنے لگے تو اخلاقیات سب سے پہلے مرتی ہیں”۔ پاکستان اسی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔
لاکھوں روپے تعلیم پر خرچ کرنے سے اگر کچھ نہیں مل رہا تو سوال تعلیم پر نہیں بلکہ نظام پر ہونا چاہیے۔ مسئلہ نصاب میں ہے، پالیسی میں ہے، کرپشن میں ہے اور ترجیحات میں ہے۔ ایک بیمار کا ہسپتال میں علاج نہ ہو تو ہسپتال بند نہیں کیا جاتا بلکہ نظام بہتر کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اکثر سول مارشل لا ذہنیت کے تحت فیصلے کیے جاتے ہیں۔ عوام کو شریک کیے بغیر اوپر سے نیچے حکم صادر ہوتا ہے۔ تعلیمی پالیسی بھی اکثر اسی سوچ کا شکار رہی ہے۔پالیسی نافذ کرتے ہوئے اُستاد سے نہیں پوچھا جاتا، طالب علم سے رائے نہیں لی جاتی اور والدین کے تحفظات کو بھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ ستم یہ کہ کڑوروں بچوں کا فائلوں میں مستقبل لکھ دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک بار کہا تھا "قومیں ایٹم بم سے نہیں تعلیم سے مضبوط ہوتی ہیں”۔ اگر ہم واقعی مضبوط پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب کو بندوق سے زیادہ اہم ماننا ہوگا۔
یونیسکو کی رپورٹس بار بار خبردار کرتی ہیں کہ ترقی پذیر ممالک اگر تعلیم پر سرمایہ کاری کم کرتے ہیں تو غربت کئی نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی لاکھوں بچوں کے سکول سے باہر ہونے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ اگر یہی رفتار رہی تو ہم صرف معاشی نہیں فکری دیوالیہ پن کا شکار بھی ہوں گے۔
سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں پڑھنے کا فائدہ ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے پڑھنے والوں کے ساتھ کیا کر سلوک رہا ہے۔ اگر تعلیم یافتہ نوجوان کو روزگارکے مواقع نہیں ملیں گے تو قصور تعلیم کا نہیں ریاستی ترجیحات کا ہوگا۔
قومیں یونیورسٹیاں بند کرکے نہیں بلکہ کھول کر ترقی کرتی ہیں اور اُستاد کو بے عزت کرکے نہیں بلکہ عزت دے کر آگے بڑھتی ہیں۔ نوجوان کو شارٹ کٹ سے بچانے کے لیے لمبا مگر محفوظ راستہ دینا پڑتا ہے۔
اگر ہم نے تعلیم کو صرف خرچ سمجھا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اس لیے کہ سکول بند ہونے کی آواز صرف ایک دروازہ بند ہونے کی آواز نہیں ہوتی بلکہ ایک قوم کے مستقبل کے بند ہونے کی دستک ہوتی ہے۔
پاکستان کو صرف امیروں کے لیے نہیں بلکہ ہر بچے کے خواب کے لیے بننا ہوگا۔ ورنہ ایک دن یہ سوال نہیں رہے گا کہ پڑھنے کا فائدہ کیا ہے بلکہ یہ سوال ہوگا کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں سے ان کا حق کیوں چھین لیا؟

محسن خالد محسنؔ

post bar salamurdu

محسن خالد محسن

محمد محسن خالد (محسن خالد محسن) ؔ شاعر ،ادیب،محقق ،نقاد اور اُستاد ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے "کچھ کہنا ہے"،دُھند میں لپٹی شام اور"ت لاش" شائع ہو چکے ہیں۔ا نھوں نے کلاسیکی غزل میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" کے موضوع پرناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے پی ایچ ۔ڈی(اُردو) 2024 میں کی ہے۔بہ حیثیت لیکچرار(اُردو) گورنمنٹ شاہ حسین گریجوایٹ کالج چوہنگ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کے پنتیس سے زائد تحقیقی مقالات ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مصدقہ جنرلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف ادبی رسائل وجرائد اوربرقی اخبارات و بلاگز میں ان کے متفرق موضوعات پر مضامین اور کالمز باقاعدگی سے شائع ہو تے رہتے ہیں۔ ادب،سماج، معاشرت،سیاست و حالاتِ پر ببانگِ دُہل اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button