یادوں کی چھاؤں اور بدلتی دنیا
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
میں 1996 میں پیدا ہوا۔ اُس وقت دنیا سادہ، خاموش اور مٹی کی خوشبو سے بھری ہوئی تھی۔ ہمارے محلے کی گلیاں پتھروں اور مٹی سے بنی تھیں، اور بارش کے بعد یہ گلیاں کیچڑ میں بدل جاتی تھیں۔ ہم بچے ان کیچڑ میں کھیلنے کا لطف لیتے، ایک دوسرے کے ساتھ دوڑتے، کبھی پانی میں چھلانگیں لگاتے، اور کبھی مٹی سے کھیل کر ایک دوسرے کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیرتے۔ وہ لمحے آج کے بچوں کے لیے شاید بس کہانی لگیں، مگر ہم نے انہیں حقیقت میں جیا۔
میرے اسکول کے دن بھی یادگار ہیں۔ ٹاٹ بوریا والے بستر پر بیٹھ کر کلاس کا انتظار، تختی پر گاچی کے نشانات بنانا، اور سیاہی دوات اور کانے کی قلم سے اپنے پہلے خطوط لکھنا، یہ سب تجربات آج کے بچوں کے لیے ناقابلِ یقین ہوں گے۔ میں یاد کرتا ہوں کہ پہلی بار جب میں نے دوات سے لکھائی کی، ہاتھ لرز رہا تھا، اور جب استاد نے میرے خط کو درست کہا، تو دل میں ایک چھوٹی سی خوشی اور فخر کی لہر دوڑ گئی۔ 1998 تک اسکول میں کمپیوٹر کلاسیں نایاب تھیں، اور جب ہمیں پہلی بار کمپیوٹر دیکھنے کا موقع ملا، ہم سب حیرت اور جوش سے پھوٹ پڑے۔ مگر وہ کمپیوٹر کبھی دوات اور کانے کی قلم سے جڑی خوشی کا بدل نہیں لے سکتا تھا۔
گھروں کی چھتیں مٹی یا اینٹوں کی بنی ہوتی تھیں، اور چھوٹی دیواریں ہمارے لیے کافی تھیں، کیونکہ حیا اور احترام کا پردہ مضبوط تھا۔ ہم بچے صبح کی دھوپ میں کھیلتے، کبھی چھت پر چھلانگ لگاتے، کبھی صحن میں کرکٹ، لڈو یا گلی کے کھیل کھیلتے۔ شام کے وقت محلے کی چارپایاں قطار میں لگتی، اور ہم ان کے درمیان کھیلتے، کبھی پڑوس کے بچوں سے چھوٹی باتیں کرتے، کبھی ہنستے۔ پڑوسنیں دیوار کے پار باتیں کرتی، اور وہیں ہماری سوشل میڈیا چھپی ہوئی تھی۔ میں آج بھی یاد رکھتا ہوں کہ جب ہم شام کے وقت محلے میں گھومتے، تو کتنی مٹھاس اور سکون محسوس ہوتا تھا۔ ہر لمحہ زندگی کی سادگی اور خوشی سے بھرا ہوتا تھا۔
چھٹیوں کا موسم ہمیشہ خاص ہوتا۔ گرمیوں میں ہم نہروں کے کنارے جاتے، پانی میں کھیلتے، کبھی کھیتوں کے بیچ ٹہلتے، کبھی کھجور کے درختوں پر چڑھ کر پھل توڑتے۔ کبھی دادی یا نانی کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کی تیاری میں ہاتھ بٹانا، کبھی ماں کے ساتھ باورچی خانے میں چھوٹی چھوٹی باتیں کرنا، ہر لمحہ خوشی کا باعث تھا۔ سردیوں میں محلے کے بچے ایک ساتھ جلتی ہوئی آگ کے ارد گرد بیٹھتے، کہانیاں سنتے اور کبھی کبھار قصے سناتے۔ ہمارے لیے یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں آج کی اسمارٹ گیمز اور نیٹ فلِکس کی سہولتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھیں۔
میں نے خود دیکھا کہ مٹی کے گھڑے کی جگہ واٹر ڈسپنسر آگیا، بَیل والے ہَل کی جگہ ٹریکٹر نے لے لی، اور تانگے یا سائیکل کی جگہ خود چلنے والی کاریں آئیں۔ مگر 2005 تک بھی میں کبھی کبھار محلے کے تانگے پر سوار ہوتا، اور دکان سے آلو یا نمک لانے جاتے وقت دکان دار سے چھوٹی باتیں کرتا۔ وہ چھوٹے لمحے آج کے بڑے مالز میں کہیں نظر نہیں آتے۔ میں آج بھی یاد رکھتا ہوں کہ 2003 میں جب میں محلے کی دکان سے آلو لینے گیا، دکان دار نے پوچھا: "آج اسکول کیسا رہا؟” اور میں نے پورا احوال سنایا۔ یہ چھوٹی گفتگو، ایک معصوم ہنسی، وہ سب لمحے زندگی کو دلکش بنا دیتے تھے۔
ہم نے خط بھیجا، خط ملا، پھر 2007 کے بعد موبائل اور ایس ایم ایس آئے، اور پھر 2010 کے بعد واٹس ایپ نے سب کچھ بدل دیا۔ میں نے دیکھا کہ دنیا کس تیزی سے بدل رہی ہے۔ انیس سو پچانوے سے دو ہزار دس تک، ہر سال نے اپنی جگہ یادیں چھوڑیں۔ 1996 میں جب میں پیدا ہوا، دنیا خاموش اور سادہ تھی۔ 1998 میں پہلا رنگین ٹی وی آیا، اور پورا محلہ خوشی سے جھوم اُٹھا۔ 2000 میں ہم نے پہلی بار موبائل فون دیکھا، اور وہ حیرت اور جوش آج بھی یاد ہے۔ 2005 تک محلے میں ٹریکٹر آ گیا، لیکن کھیل، گلی کے کھیل، اور دوستانہ دوڑیں وہی رہیں جو بچپن کی اصل خوشی تھیں۔ 2008 میں اسکول میں پہلی بار کمپیوٹر کلاس شروع ہوئی، اور ہم سب کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر سوچ رہے تھے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے۔ 2010 میں واٹس ایپ اور آن لائن چیٹ نے رابطوں کے انداز بدل دیے، لیکن وہ انسانی لمس اور چھوٹے لمحے کی خوشی کہیں کم ہو گئی۔
ہر سال کے چھوٹے لمحے، ہر چھوٹا کھیل، ہر چھوٹا خوشی کا موقع زندگی کے قیمتی حصے تھے۔ کبھی محلے کی بلی کے ساتھ کھیلنا، کبھی کسی بچے کے ساتھ جھگڑا اور پھر صلح کرنا، یہ سب انسانی تعلقات اور سیکھنے کے لمحات تھے۔ کبھی محلے کے بزرگوں کی باتیں سننا، ان کی نصیحتیں جاننا، کبھی دادی کے ساتھ کہانی سننا، یہ سب وہ تجربات ہیں جو آج کے بچوں کے ڈیجیٹل ماحول میں کم نظر آتے ہیں۔
ہمارا فخر صرف یہ نہیں کہ ہم نے دو تہذیبیں دیکھی ہیں، بلکہ یہ کہ ہم نے ہر لمحے کو محسوس کیا، جیا، اور یادوں میں محفوظ کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے فوائد کے باوجود انسانی تعلقات، محنت کی قدر، اور صبر کی اہمیت کبھی مدھم نہیں ہو سکتی۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم خوش نصیب ہیں، لیکن ساتھ ہی آخری لوگ بھی ہیں، جو یہ سب حقیقت میں دیکھ چکے ہیں۔
اور یہی ہماری سب سے بڑی دولت ہے: یادیں، چھوٹے لمحے، انسانی تعلقات، اور وہ احساس کہ زندگی صرف سہولتیں نہیں بلکہ محبت، محنت اور یادوں کا مجموعہ بھی ہے۔ یہ خزانہ ہم نے جیا، اور یہ خزانہ ہم اگلی نسل کو منتقل کر سکتے ہیں، تاکہ وہ بھی جان سکیں کہ حقیقی خوشی کہاں چھپی ہے۔
یوسف صدیقی








