- Advertisement -

Dil Jo Tha Ek Aabla

An Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا
رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

طائر رنگ حنا کی سی طرح
دل نہ اس کے ہاتھ سے چھوٹا گیا

میں نہ کہتا تھا کہ منہ کر دل کی اور
اب کہاں وہ آئینہ ٹوٹا گیا

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

میرؔ کس کو اب دماغ گفتگو
عمر گزری ریختہ چھوٹا گیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از اصغر گونڈوی