آپ کا سلاماردو غزلیاتزبیر خیالیشعر و شاعری

ہِراس ظلمتِ شب کا بِکھرنے والا ہے

زبیر خیالی کی ایک اردو غزل

ہِراس ظلمتِ شب کا بِکھرنے والا ہے
فلک کے ماتھے پہ سورج ابھرنے والا ہے

جو حرفِ راز زباں سے نکل گیا اپنی
کہاں وہ ایک بشر تک ٹھہرنے والا ہے

براجمان تھا مدت سے تختِ دل پر جو
وہ شخص اب مِرے دل سے اترنے والا ہے

پرانے گھر کی کچھ اینٹیں نکال کر مفلس
نئے مکان کی تعمیر کرنے والا ہے

مِری نِگہ ہے درِ اہلِ درد پر مرکوز
مِری حیات کا چہرہ سنورنے والا ہے

حِصار باندھ رکھا ہے حسد نے اس کے گرد
وہ اپنی آگ میں خود جَل کے مرنے والا ہے

زبیر خیالی

post bar salamurdu

زبیر خیالی

سینئر نائب صدر بزمِ دوستانِ ادب، سیالکوٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button