- Advertisement -

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ

ناہید ورک کی اردو غزل

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ
دم بخود سی بیٹھی ہے میرے بام کی آہٹ

کیوں ٹھہر گئی دل میں اُس قیام کی آہٹ
کیوں گزر نہیں جاتی اُس مقام کی آہٹ

ہاتھ کی لکیروں سے کس طرح نکالوں میں
تیری یاد کے موسم تیرے نام کی آہٹ

آنکھ میں مچلتی ہے روح میں تڑپتی ہے
اُس پیام کی آواز اُس قیام کی آہٹ

جب یہ دل رفاقت کی کچی نیند سے جاگا
ہر طرف سنائی دی اختتام کی آہٹ

فرقتوں کے بوسیدہ ساحلوں پہ اُتری تو
ہر طرف تھی بس تیرے صبح و شام کی آہٹ

رات کے اُترتے ہی دل کی سُونی گلیوں میں
جاگ اُٹھتی ہے پھر سے تیرے نام کی آہٹ

بیٹھ جاتی ہے آ کر در پہ کیوں مرے ناہید
تیرے ساتھ کی خوشبو، تیرے گام کی آہٹ

ناہید ورک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل