- Advertisement -

بلا عنوان

ذوالقرنین حسنی کی اردو نظم

بلا عنوان 

یہ میں ہوں جس نے ماہ و سال کی گھٹن کو
ذات کے تنور میں مکاشفے کے زہر سے فزوں کیا
یہ میں ہوں جس نے اپنی لاش گاڑ کر دعا نہ کی ۔۔
یہ میں ہوں جس نے تربت_ غرور کو رجم کیا ۔۔
مجھے کسی سے کیا گلہ ۔۔
ردائے با صفا لپیٹ کر بھی کیا چھپاؤں گا ۔۔
وہ روشنی مسام در مسام جو ہزار ہا نجوم کی
ضیائے بے کنار کا نفوذ ہے۔۔
یہ میں ہوں جس نے اپنی بات کو غلط کہا ہوا ہے
کائنات کے ہزار چیتھڑے ہوا کے دوش پر اڑائے ہیں۔
سو عہد_ بدلحاظ کے مزار پہ مجاوری روا نہیں
غلیظ پانیوں کی کوکھ سے جنے نظام_ بد قماش
پہ ہزار تف ۔۔۔ یہ کون سا مقام ہے ۔۔۔۔
کہ میرے پیش رو، حریم لفظ کے معاصریں
یا وہ کہ جن پہ آیتیں بھی خود اتر نہیں رہیں ۔
مجھے بتائیں گے ۔۔
کہ میرے ہاتھ کا عصا کسی
کی ناک پہ سوار ہے ۔۔
زبان کیوں نہ کاٹ دوں جو مصلحت کی گود میں
چہیتی داشتہ بنی لچک گئی۔۔
یہ خر نما گماشتے
یہ منبروں پہ ناچتے کریہہ شکل بوزنے
ہمارے ذہنی انتزاع, فکر کا ثبوت ہیں
مگر یہیں پہ واقفان حرمت_ کلام کو
زبان_ خوش خصال صوت _ دل گداز و نغمگیں کی آیتیں مصفا پانیوں کی جھلملاہٹوں میں
تیرتی شفاف مچھلیاں بنی اترتی ہیں۔۔
حرام خور سوچتے ہیں ایک دوسرے کی تھالیوں
سے گند چاٹ کر فزوں ہوئے
شعور ممکنات سے وفور_ کائنات تک
یہ جس قدر بھی دھول کو اڑا سکیں
جمال_ صبحِ جاوداں کو کیسے روک پائیں گے۔ ۔۔
جو روز پوری تاب و طمطراق سے عظیم اور عمیق روزن_ نگاہ_ بے کنار و شش جہت سے بے طلب کے پاؤں چھونے آتی ہے ۔۔۔
یہ میں ہوں کارگاہ_ ظاہری کی بے مہار
ڈاچیوں کے بے شمار قافلے کسی کے دست_ مدعا
پہ وار دوں ۔۔
یہ میں ہوں اپنے انہماک سے گریز کر رہی مسافتوں
فلک سے چھن رہی عداوتوں کو بے دلی سے گوندھ کر سنوار دوں ۔۔۔
مجھے کسی سے کیا غرض۔
مجھے کسی سے کیا گلہ۔۔۔
مگر مرے مزاج میرے حال_ دل کے محرما۔۔
جو تو نے میری تربت_ حزیں پہ پھول ڈال کر غصب کیا۔
برا لگا ۔۔۔

ذوالقرنین حسنی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ذوالقرنین حسنی کی اردو غزل