آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریناصر ملک

وہ ہجر ، وہ ستم کہاں

ایک اردو غزل از ناصر ملک

وہ ہجر ، وہ ستم کہاں
وہ تاب و ضبطِ غم کہاں

بجھی بجھی سی آنکھ میں
کمالِ جامِ جم کہاں

کہاں گئیں اُداسیاں
فشارِ چشمِ نم کہاں

کبھی پلٹ کے آئے جو
صدا میں اتنا دم کہاں

میں قتلِ جاں پہ چپ رہوں
مزاج میں وہ خم کہاں

خراش دل پہ ثبت ہے
ہوا ہے درد کم کہاں

یہ راستوں سے پوچھنا
کہ کھو گئے تھے ہم کہاں

ناصر ملک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button