آپ کا سلاماردو غزلیاتتجدید قیصرشعر و شاعری

جو اُس کے ہونٹوں سے جھوٹا ہوا نہیں

تجدید قیصرکی ایک اردو غزل

جو اُس کے ہونٹوں سے جھوٹا ہوا نہیں
میری چائے کا پیالا میٹھا ہوا نہیں

جلدی کر دی رب نے اُسے بنانے میں
وہ جو میرا ہو سکتا تھا ہوا نہیں

ترے لیے وہ ساری دنیا چھوڑ آیا
تجھے زرا سا بھی اندازہ ہوا نہیں

تھم کر چلنے لگا اچانک سے یہ دل
اس کی ایک نظر سے کیا کیا ہوا نہیں

جو خوابیدہ آنکھوں کا بیمار ہوا
کسی دعا دارو سے اچھا ہوا نہیں

تجدید قیصر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button