- Advertisement -

کسی چراغ کو چھوتی ہوئی ہوا جیسے

تجدید قیصرکی ایک اردو غزل

کسی چراغ کو چھوتی ہوئی ہوا جیسے
کوئی قریب سے ہو کر گزر گیا جیسے

گلے لگایا تھا اُس نے کہ سب بدلنے لگا
ہمارے دل میں اتر آیا ہو خدا جیسے

وہ میری بکھری ہوئی زندگی میں یوں آیا
گھنے فریب کے جنگل میں راستہ جیسے

ہے اُس کی آنکھ میں جلتے ہوئے بہشت کی آگ
ہر ایک حرف ہے جس کا کوئی دعا جیسے

اُس ایک شخص کو ملتا رہے سبھی کا پیار
بس ایک سمت میں چلتی رہے ہوا جیسے

تجدید قیصر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اردو تحریر از سعد ضیغم