زبیر خیالی
سینئر نائب صدر بزمِ دوستانِ ادب، سیالکوٹ
-

بوئے خلوص ، عظمتِ انسان کھینچ کر
زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
-

مجھے اَنا کے عِوض بے قیاس کھو دے گا
زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
-

کھیل دنیائے عارضی کا ہوں
زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
-

حیات ایسے گزاری جارہی ہے
زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
-

یہ لوگ کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے
زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
-

وہ اضطراب کا منظر عجیب لگتا ہے
زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
-

ناتوانی راستے کی فکر تھی
زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
-

منزلِ نَو نظر میں رہتی ہے
زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
-

حالات نے ذرا بھی سنورنے نہیں دیا
زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
-

ہِراس ظلمتِ شب کا بِکھرنے والا ہے
زبیر خیالی کی ایک اردو غزل