آپ کا سلاماردو غزلیاتزبیر خیالیشعر و شاعری

مجھے اَنا کے عِوض بے قیاس کھو دے گا

زبیر خیالی کی ایک اردو غزل

مجھے اَنا کے عِوض بے قیاس کھو دے گا
مَیں کہہ رہا ہوں تو اک غم شناس کھو دے گا

حیات جس نے بسر کی ہے بے خودی میں تمام
اگر وہ ہوش میں آیا حواس کھو دے گا

دیارِ غیر کے ہیں خواب تیری آنکھوں میں
مجھے یہ ڈر ہے تو اپنی اَساس کھو دے گا

یہ دل وبال سے بے باک ہوگیا اِتنا
کہ ایک روز یہ خوف و ہراس کھو دے گا

تری نگاہ خیالی جہاں میں بھٹکے گی
اگر تو شرم و حیا کا لباس کھو دے گا

زبیر خیالی

post bar salamurdu

زبیر خیالی

سینئر نائب صدر بزمِ دوستانِ ادب، سیالکوٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button