آپ کا سلاماردو نظمشازیہ اکبرشعر و شاعری

اب۔۔۔۔

شازیہ اکبر کی اردو نطم

اب۔۔۔۔

موت بھی گھبرا رہی ہے زندگی کے خوف سے
ہر کلی مرجھا رہی ہے زندگی کے خوف سے
اب کے پیمانے وفا کے اس طرح بدلے یہاں
خود جفا شرما رہی ہے زندگی کے خوف سے
نور و ظلمت کا یہاں اب فرق بھی مٹنے لگا
ہر نظر پتھرا رہی ہے زندگی کے خوف سے
اب نشانِ رہ کوئی ہو منزلیں ملتی نہیں
رہ گزر دھندلا رہی ہے زندگی کے خوف سے

شازیہ اکبر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button