آپ کا سلاماسلامی گوشہبشریٰ سعید عاطفحمد و ثنا

تری حمد مولا کروں رات دن

حمد ِباری تعالیٰ از بشریٰ سعید عاطف

رہوں مَیں سَدا سرنگوں رات دن
تری حمد مولا کروں رات دن

خدایا! مَیں مانوں ترے حکم سب
ترے راستے پر چلوں رات دن

لگاؤں اِسے چوم کر دل سے مَیں
صحیفہ ترا مَیں پڑھوں رات دن

یہی میری بخشش کا موجب بنے
قدم نیکیوں میں رکھوں رات دن

اطاعت میں تیری ہمیشہ رہوں
محبّت کی مالا جپوں رات دن

مجھے نفسِ امّارہ اکسائے، پر
برائی کی رہ سے بچوں رات دن

تری بندگی میں جھکے یہ جبیں
ترے در پہ سجدہ کروں رات دن

سکوں کے نگر میں رہوں مَیں سدا
عنایت سے تیری بسوں رات دن

ہے بشریٰؔ کے دل کی یہی آرزو
ثنا تیری یاربّ! لکھوں رات دن

بشریٰ سعید عاطف

post bar salamurdu

بشریٰ سعید عاطف

بشریٰ سعید عاطف ایک باصلاحیت اور ہمہ جہت پاکستانی شاعرہ ہیں جو اس وقت یورپ میں مقیم ہیں۔ وہ ادبی دنیا میں اپنی منفرد اور مؤثر آواز کے ذریعے ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کی شاعری میں مشرقی احساسات اور مغربی تجربات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جو نہ صرف ثقافتی ہم آہنگی بلکہ انسانی احساسات کی گہرائی کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ ان کے اشعار میں شناخت، ہجرت، ثقافتی تنوع، اور روحانیت جیسے موضوعات ایک خوبصورت شعری توازن کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ بشریٰ سعید عاطف کی تخلیقات میں پاکستان کی روایتی شعری فضا اور یورپ کے جدید فکری پسِ منظر کا امتزاج واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ وہ فطرت کی خوبصورتی، انسانی رشتوں کی نزاکت، اور یورپی شہروں کی دلکشی کو اپنے اشعار میں نہایت لطیف انداز میں پیش کرتی ہیں۔ ان کی شاعری دل سے نکلتی ہے اور سیدھی دل میں اتر جاتی ہے — چاہے وہ وطن کی یاد ہو، محبت کی لطافت، یا زندگی کے فلسفیانہ پہلو۔ بشریٰ سعید عاطف نے نہ صرف آزاد نظم اور غزل میں اپنی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے بلکہ انہوں نے حمد، نعت، منقبت، سلام، مرثیہ، دوہے، ٹپے، اور کلاسیکی و جدید نظم کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ہر صنف میں ان کی انفرادیت، زبان پر قدرت، اور جذبے کی شدّت نمایاں نظر آتی ہے۔ خاص طور پر ان کی نعتیہ شاعری میں عقیدت و محبت کا ایسا گہرا رنگ جھلکتا ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔ ان کی شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات کا سفر ہے — ایک ایسا سفر جو قاری کو سرحدوں سے ماورا کر کے انسانیت، محبت، اور روحانیت کی وسعتوں میں لے جاتا ہے۔ اپنی شاعری کے ذریعے وہ مشرق و مغرب کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کر رہی ہیں جو تہذیبی فاصلوں کو مٹاتا اور دلوں کو قریب لاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button