اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

نئے طور سیکھے نکالے ڈھب اور

میر تقی میر کی ایک غزل

نئے طور سیکھے نکالے ڈھب اور
مگر اور تھے تب ہوئے ہو اب اور

ادا کچھ ہے انداز کچھ ناز کچھ
تہ دل ہے کچھ اور زیر لب اور

لب سرخ کو ٹک دکھاتے نہیں
طرح پان کھانے کی تھی کچھ جب اور

نہ گرمی نہ جوشش نہ اب وہ تپاک
تکلف نہیں اس میں تھے تم تب اور

زمانہ مرا کیونکے یکساں رہے
اٹھاویں گے تیرے ستم یہ کب اور

جدا اتفاقاً رہا ایک میر
وگرنہ ملے یوں تو اس سے سب اور

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button