اردو غزلیاتحیدر علی آتششعر و شاعری

تار تار پیرہن میں بھر گئی

ایک اردو غزل از خواجہ حیدر علی آتش

تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست
مثلِ تصویرِ نہالی میں ہوں، ہم پہلوئے دوست

ہجر کی شب ہوچکی روزِ قیامت سے دراز
دوش سے نیچے نہیں اُترے ابھی گیسوئے دوست

فرشِ گُل بستر تھا اپنا، خاک پر سوتے ہیں اب
خشت زیرِ سر نہیں، یا تکیہ تھا زانوئے دوست

یاد کرکے اپنی بربادی کو، رو دیتے ہیں ہم
جب اُڑاتی ہے ہوائے تُند خاکِ کوئے دوست

اس بلائے جاں سے آتشؔ! دیکھیے کیوں کر نبھے
دل سِوا شیشے سے نازُک،دل سے نازُک خوئے دوست

حیدر علی آتش

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button