اردو نظمشعر و شاعرییونس متین

یہ مِرا دل ہے

یونس متین کی ایک اردو نظم

یہ مِرا دل ہے

یہ مرا دل ہے
نہیں سنگِ مزار
جس پہ سر جھکنے سےریزہ ریزہ ہوں سب آٸنے
اور ناں یہ دیوتاٶں کی کوٸی قربان گاہ
جس کی دیواروں پہ ، در پر
ہو لہو روشن کسی انسان کا
خوف ہو ذہنوں کی شاخوں پر حشم کا
اک مقدس اور پاکیزہ حشم کا !
جس سے جھک جاتے ہیں انسانوں کے سر دیوانہ وار
سامری راہب کے آگے
دیوتاٶں کے حضور
آدمی کچھ اور بھی ہو جاتا ہے ” ہونے “ سے دُور

یہ ہے میرا دل بیاباں
زاٸروں کی مفلسی ، کم ماٸیگی سے دُور
نذرانہ گزاروں سے تہی
مکرو ریا کے زاویوں ، کشکول زادوں سے بھی دُور
دُور تک خود اپنی ہی ویرانیوں کے درمیاں
دُور تک جس میں فقط خاموشیاں
شام ڈھل جاٸے تو
جس میں جل اٹھیں
انساں کی عظمت کے چراغ
آدمیت کے ایاغ
نُور سے بھی قیمتی مٹی کے داغ
اپنے ہونے کے سراغ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانس لیتا ہے
دھڑکتا ہے یہ بیکل بار بار
یہ مرا دل ہے نہیں سنگِ مزار

یونس متین

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button