آپ کا سلاماردو غزلیاتزبیر خیالیشعر و شاعری

یہ لوگ کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے

زبیر خیالی کی ایک اردو غزل

یہ لوگ کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے
بے لوث خدا سے بھی محبت نہیں کرتے

کیوں ہم سے ہراساں ہو ، تٙسٙلُّط ہے تمھارا
کردار مصنف سے بغاوت نہیں کرتے

جو دیکھنا چاہیں ہمیں دنیا کی نظر سے
پھر ہم بھی عطا ان کو بصارت نہیں کرتے

نادان نکل آئے ہیں تاریکیءِ شب سے
اب چاند ستاروں کی عبادت نہیں کرتے

لے آئیں کوئی ڈھونڈ کے انسان کا ہمسر
ہم اہلِ جنوں ایسی حماقت نہیں کرتے

مَیں ہاں میں مِلاتا نہیں ہاں ان کی خیالی
احباب بھی اب میری وکالت نہیں کرتے

زبیر خیالی

post bar salamurdu

زبیر خیالی

سینئر نائب صدر بزمِ دوستانِ ادب، سیالکوٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button