آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

بنانا پڑتا ہے پھر ماں کو رخصتی کا لباس

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

بنانا پڑتا ہے پھر ماں کو رخصتی کا لباس
جو چھوٹی بیٹی پہننے لگے بڑی کا لباس

سیاہ رنگ لبادے پہ خون کے چھینٹے
کئی سوال اٹھاتا ہے ماتمی کا لباس

اسی لیے کسی تقریب میں نہیں جاتے
اداس لوگوں پہ جچتا نہیں خوشی کا لباس

یہ رنگ و نسل ، قبیلہ ہے بعد کا قصہ
کہیں بھی پہلا تعارف ہے اجنبی کا لباس

اگر زبان نفاست پہ کار بند رہے
ہزار عیب چھپاتا ہے آدمی کا لباس

رضاۓ رب کے علاوہ نہیں ہے کچھ مقصود
کسی نگاہ کا طالب نہیں خودی کا لباس

گلے ملے تو عجب واقعہ ہوا ساجد
کسی کے اشک چُھپاتا رہا کسی کا لباس

لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button