آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرعامر صدیقی

مکان

عامر صدیقی کا ایک اردو افسانہ

اس نئے مکان میں آئے ہمارا دوسرا دن تھا، ہم سے مراد میں اور میرے دو چھوٹے بچے۔ کافی جستجو اور تلاش کے بعد، میں اس مکان کو کھوج پائی تھی۔ شہر کے ہنگاموں سے دور، ایک الگ تھلگ پرسکون علاقے میں واقع یہ مکان، مجھے اور میرے بچوں کو بہت پسند آیا تھا۔ قریب ترین آبادی بھی یہاں سے میلوں دور تھی۔ اور یہی تو ہم چاہتے تھے۔ یہاں آزادی سے میرے بچے گھوم پھر سکتے تھے۔ کوئی ان کو دیکھنے والا، کوئی انہیں تنگ کرنے والا، کوئی انہیں ڈرانے والا نہ تھا۔
گو کہ ہم یہاں شفٹ ہو گئے۔ پر پہلے والے مکان کی یادیں تو بہرحال ہمارے دل میں موجود رہیں گی۔ کیا زبر دست جگہ تھی۔ میرے شوہر نے اسے کھوجا تھا۔ گو کہ یہ دو منزلہ عمارت، جس کی بالائی منزل پر ہم رہتے تھے اور نچلی منزل ایک عرصے سے خالی تھی، سالخوردہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی، مگر ہمیں اس کی یہی خامی بہت پسند آئی۔ یہاں پڑوسیوں کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا اور آبادی بھی کافی دور تھی۔ بچے آرام و سکون سے پوری عمارت میں گھومتے رہتے اور چھپن چھپائی جیسا ہمارا خاندانی اور من پسند کھیل کھیلتے رہتے۔
کچھ عرصے بعد اسی مکان میں میرا شوہر بھی مجھ سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ گیا تھا۔ وہ گو کہ بڑا مہذب اور شریف تھا۔ مگر اسے لوگوں کو تنگ کرنے میں بڑا مزہ آتا تھا۔ میں اس کی اس عادت سے سخت خفا رہتی تھی۔ اور اس کو سمجھایا کرتی کہ بیکار کسی کو تنگ نہ کیا کرو۔ پریشان نہ کیا کرو۔ یہ شریفوں کا شیوہ نہیں۔ کبھی کوئی پلٹ کر جواب بھی دے سکتا ہے۔ پر وہ میری سنتا کب تھا۔ اسے اپنے اس اکلوتے شوق میں بہت لطف آتا تھا۔ گو کہ وہ تنگ کرنے سے آگے کبھی نہیں بڑھا، مگر پھر بھی شومیِ قسمت اسے اس کا نتیجہ بھگتنا پڑا، جب اس کی حرکتوں پر کسی نے اس کا جواب دیا اور وہ مجھ سے ہمیشہ کیلئے دور چلا گیا۔ نجانے وہ کس جہان میں اور کس عالم میں ہو گا، کسے خبر، کون جانے۔
پھر ایک دن اچانک وہ کڑا وقت آ ہی گیا، جس کو سوچ کر ہی میری روح فنا ہوتی تھی۔ نچلی منزل میں نجانے کہاں سے ایک فیملی آ کر آباد ہو گئی۔ میں نے بچوں کو گھر میں چھپا لیا۔ ان کے باہر نکلنے پر پابندی عائد کر دی اور ہنگامی بنیادوں پر کسی نئی رہائش کی تلاش شروع کر دی۔
یہاں آ کر ہم سبھی نے سکون کا سانس لیا تھا۔ ہم لمبی لمبی سیروں پر جاتے، پہاڑ چڑھتے، ویرانوں میں گھومتے۔ اور خوب مزے کرتے۔ اسی بے فکری میں کئی مہینے گذر گئے۔ مگر، جب ایک صبح ہم سیر پر نکلے تو پایا کہ آس پاس کے علاقے میں بڑے بڑے ہورڈنگ لگ رہے ہیں۔ زمین کی پیمائش کی جا رہی ہے۔ اور بلڈوزروں کے چلنے سے زمین کانپ رہی ہے۔ اور میں بچوں کو چپکا کر سوچ رہی ہوں کہ اب پھر سے کوئی دوسرا ٹھکانہ ڈھونڈنا پڑے گا۔

عامر صدیقی

عامر صدیقی

لکھاری،ترجمہ نگار،افسانہ نگار،محقق۔۔۔ / مائکرو فکشنسٹ / مترجم/شاعر۔ پیدائش ۲۰ نومبر ۱۹۷۱ء بمقام سکھر ، سندھ۔تعلیمی قابلیت ماسٹر، ابتدائی تعلیم سینٹ سیوئر سکھر،بعد ازاں کراچی سے حاصل کی، ادبی سفر کا آغاز ۱۹۹۲ ء ؁ میں اپنے ہی جاری کردہ رسالے سے کیا۔ ہندوپاک کے بیشتر رسائل میں تخلیقات کی اشاعت۔ آپ کا افسانوی مجموعہ اور شعری مجموعہ زیر ترتیب ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button